اربوں روپے لوٹنے والے ڈیم فنڈنگ میں حصے دار بنیں ورنہ ان کا حساب ہوگا،

حساب لیا جائے گا کہ کس نے کتنی جائیدادیں بنائیں اور کیسے بنائیں، لانچ کے ذریعے اربوں روپے باہر بھیجنے والوں کو حساب دینا پڑے گا: لندن میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا خطاب

لندن (روزنامہ سماج) اربوں روپے لوٹنے والے ڈیم فنڈنگ میں حصے دار بنیں ورنہ ان کا حساب ہوگا،، لندن میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حساب لیا جائے گا کہ کس نے کتنی جائیدادیں بنائیں اور کیسے بنائیں، لانچ کے ذریعے اربوں روپے باہر بھیجنے والوں کو حساب دینا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انہیں خوف تھا کہ چیف جسٹس کو فنڈ ریزنگ پر نہیں جانا چاہیے لیکن احساس ہوا کہ یہ خوف غلط تھا ،پاکستانیوں کی حب الوطنی اور جذبہ دیکھ کر چندے کی اپیل کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ بڑوں سے توقع تھی تاہم انہوں نے ڈیم فنڈ میں خاطر خواہ حصہ نہیں ڈالا، افسوس اربوں کمانے والوں نے ڈیم فنڈ میں ایک ارب بھی واپس نہیں دیا، حساب لوں گا کہ کس نے کتنی جائیدادیں بنائیں چیف جسٹس نے کہا کہ لانچ پر پیسے باہر بھیجنے والوں کو بھی حساب دینا پڑے گا، تین ارب روپے کی پراپرٹی دبئی میں کیسے بنائی یہ سارا پیسہ پاکستانی قوم اور ٹیکس دہندگان کی امانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم کے مخالف چند مفاد پرست ڈیم بننے سے نہیں روک سکتے، دریائے سندھ کا پانی عوام کی امانت ہے، اس میں کوئی خیانت نہیں کرسکتا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لندن میں ڈیم مخالف مظاہرے سے پتہ چل گیا کہ آج تک ڈیم کیوں نہ بنے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وہ اربوں روپے لوٹ کر باہر جائیدادیں بنانے والوں سے حساب لیں گے، جس کے بعد ڈیم فنڈ کے لیے مزید چندے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے صدقِ دل سے چندہ دیا ہے ،ان کا بیحد مشکور ہوں ،یہ رقم سپریم کورٹ کے پاس امانت ہے۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں