آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتوں کاتحریک انصاف کوٹف ٹائم، وزیر اعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیلئے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتوں نے تحریک انصاف کوٹف ٹائم دینے کے لئے وزیر اعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ کیاہے ۔ پالیمان کے اندر اور باہر بھی احتجاج کیا جائے گا ،مزید لائحہ عمل طے کرنے کے لیے 16رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس کے اجلاس کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کریں گے ۔ ہم دھاندلی زدہ الیکشن نہیں مانتے ۔ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہم پارلیمان میں وزیر اعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے مل کر الیکشن لڑیں گے اور مضبوط جمہوری اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کا امیدوار پیپلز پارٹی ، ڈپٹی سپیکر کا ایم ایم اے جبکہ وزیر اعظم کا امیدوار مسلم لیگ ن سے ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ الیکشن کو شفاف رکھیں اور غیر جانبدار رکھیں۔ ہم کو اس الیکشن کے نتائج قبول نہیں ہیں لیکن ہم جمہوریت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ہم نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیںہیں ۔ ہم ہر جگہ اپنا احتجاج بھرپور طریقے سے ریکار ڈ کروائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ آئندہ کالائحہ عمل طے کرنے کے لئے 15رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے ۔
اس موقع پر اے این پی کے میاں افتخار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں میدان لگے گا اور ہم یہ کوشش کریں گے کہ ہم جیت کا دکھائیں۔ ایم ایم اے کے لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے الیکشن کو مسترد کردیا ہے لیکن ہم جمہوری لوگ ہیں اور ایوانوں میں جاکر جدوجہد کریں گے ۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومت نے اپنے اختیارات استعمال نہیں کئے اور ان کے اختیارات پر کوئی اور قابض ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد جیتنے والے بھی شرمسار ہیں اور ہارنے والے بھی پریشان ہیں۔ ہم آئین اور جمہوریت کا تحفظ کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم متحد ہو کر آئین اور جمہوریت کا دفاع کریں گے ۔

احسن اقبال نے کہا کہ پارلیمان میں ہم وزیر اعظم ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے لئے بھرپور انتخاب لڑیں گے اور کوشش کی جائیگی کہ اس کٹھ پتلی گٹھ جوڑ کو شکست دی جا سکے ۔ تمام جماعتیں مل کر جمہوریت کا دفا ع کریں گی۔مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ متحدہو کر الیکشن بھی لڑیں اور احتجاج بھی ریکارڈ کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو متحد ہو کرلڑیں گے وہ جیت کر بھی دکھائیں گے ۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں