عثمان بزدار تبدیلی کانام ،شہبازشریف کی گرفتاری پر شور مچانے والے زیادہ دیر جیل سے باہر نہیں رہیں گے:وزیر اعظم عمران خان نے خسارے پر قابو پانے کیلئے قوم کو مہنگائی کی نوید سنا دی

لاہور (ڈیلی سماج آن لائن) وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ جتنا مرضی شور مچائیں کرپٹ افراد کو نہیں چھوڑوں گا ، تحریک انصاف کی حکومت تک وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار رہیں گے، عثمان بزدار تبدیلی کا نام ہے ، 100دن بعد وزراءکی کارکردگی کا جائز ہ لیا جائیگا ، شہبازشریف کی گرفتاری پر شور مچانے والے زیادہ دیر جیل سے باہر نہیں رہیں گے ،خسارے پر قابو پانے کیلئے مہنگائی ہوگی ،تبدیلی ایک سال بعد نظر آئے گی،ملک کومقروض کرنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا ، بہت سے چہروں پر خوف نظر آرہاہے ۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ عثمان بزدار اس علاقے سے آئے ہیں جہاں سے کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ وہاں سے کوئی وزیر اعلیٰ پنجاب بن سکتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی یہ ہے کہ عثمان بزدار نے علاج کروانے باہر نہیں جانا اور یہ ایک عام انسان کا درد رکھتے ہیں، یہ ایک ایماندار آدمی ہیں اور اس حوالے سے میں بے خوف ہوں کہ عثمان بزدار کرپشن نہیں کرے گا ، عثمان بزدار تبدیلی کا نام ہے ، پنجاب کا ڈیلپمنٹ فنڈ تینوں صوبوں سے زیادہ ہے ۔ عثمان بزدار ایک عام آدمی ہیں او ر ان میں عاجزی ہے اور سب سے ملتے ہیں، پچھلے وزیر اعلیٰ کسی ایم پی اے سے بھی نہیں ملتے تھے،عثمان بزدار کو پتہ ہے کہ آلودہ پانی پینے سے کتنے لوگ مرجاتے ہیں؟ میں بار بار سنتا ہوں کہ وزیراعلیٰ پنجاب ناکام ہوگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ وقت دیں پھر آپ کوپتہ چلے گا کہ عثمان بزدار پنجاب کے سب سے کامیاب وزیر اعلیٰ ثابت ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی پریس کانفرنس کررہاہوں کیونکہ میں قوم کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ تجربہ کار سیاستدانوں نے ملک کو چھوڑا کہاں ہے ؟انہوں نے کہا کہ ہمار ی پالیسیوں کے اثرات سو دن میں نظر آئیں گے اور پھر آپ کوپتہ چلے گا کہ اس کے کتنے اثرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو کہا جاتاہے کہ پنجاب سپیڈ تھی اور بڑی ترقی ہوئیلیکن اگر آپ کو قرضے لینے پڑتے ہیں اور آمدنی کم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حالات برے ہیں۔ ملک پر اتنا قرضہ چڑھا دیا گیا ہے کہ حالات بہت برے ہیں، بجلی کا گردشی قرضہ بارہ سو ارب روپیہ ہے ، گیس سیکٹر جس میں کبھی خسارہ ہی نہیں ہوا ، اس پر بھی آج اربوں روپیہ قرضہ چڑھا ہوا ، سٹیل ملر پر 187ارب، گیس پر157ارب اور پی آئی اے پر 360ارب روپے قرضہ چڑھا ہواہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اتنی چیزیں ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ ملک بہت تیز ی سے اوپر اٹھے گا ، ہر چیز یہاں پر دستیاب ہے اور سرمایہ کار ملک میں آنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں آج ہمیں چھوڑا ہوا ہے تو اس مشکل وقت سے گزرنا پڑے گا ، بجلی او ر گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کریں گے تو ملک پر مزید قرضہ چڑھ جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آج شہبازشریف کو نیلسن منڈیلا بنتے دیکھااور دیکھا کہ کیسے ان کی گاڑی کے گرد نعرے مار ے جارہے ہیں تو اس لئے میں یہ پریس کانفرنس کر رہاہوں۔انہوں نے کہا کہ جب قوم پر قرضے چڑھتے جارہے تھے تو کسی نے سوچا تھا کہ یہ قرضے واپس کیسے کرنے ہیں ؟ میٹر و اور اورنج ٹرین کے لئے قرضے لئے جاتے رہے اور پھر وہ مزید خسارے میں جارہی ہیں، کیاان کو سمجھ نہیں تھی کہ یہ قرضے کیسے واپس کرنا ہے ؟پاکستان میں22کروڑ میں سے صرف 70ہزار لوگ ہیں جو ٹیکس دیتے ہیں ، اس بات کا کیا ان کو پتہ نہیں تھا ، اب اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں تو چیزیں تو مہنگی ہونی ہیں جب قرض پر قرض لیتے جائیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک طریقہ ہے کہ ہم قرض واپس کریں اور چیزیں بھی مہنگی نہ ہوں اور وہ یہ ہے کہ لوٹا ہوا پیسہ وطن واپس لایا جائے ۔ کیا سابق حکومت کا فرض نہیں تھا کہ نوارب ڈالر جوملک سے باہر گیاہے اس کاپتہ لگایا جائے کہ یہ پیسہ کیسے باہر گیاہے ؟ اس کی کسی نے کوشش نہیں کی لیکن اب ہم کررہے ہیں ، ہم نے دبئی سمیت بیرون ملک دس ہزار جائیدادیں پکڑی ہیں اور 300لوگوں کو نوٹسز دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑی عجیب چیزیں ہورہی ہیں ، کسی فالودے والے کے پاس اربوں روپیہ نکل آیاہے ، یہ پہلے بھی ہوسکتا تھا لیکن یہ اب ہم کررہے ہیں، اس سے بھی کافی پیسہ اکٹھا ہوگا ، ہم بیرون ملکی ریکوری کے لئے ایک خصوصی یونٹ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کی گرفتاری پر کہا جارہاہے کہ سیاسی انتقام لیا جارہاہے لیکن یہ مقدمات تو دس دس ماہ قبل بنائے گئے تھے ، یہ مقدمات بہت پہلے ختم ہوجانے چاہئے تھے ، اگر نیب میرے نیچے ہوتی تو ابھی 50لوگ جیلوں میں ہونے تھے ، یہ شکر کریں کے میرے نیچے نیب نہیں ہے ۔ایف آئی اے اور آئی بی میرے نیچے ہے اور میں ان کودیکھ رہاہوں، میں شہبازشریف کے پیچھے دیکھ رہا تھا کہ کچھ لوگ کیسے معصوم معصوم شکلیں بنا کربیٹھے ہوئے تھے ، ان کو پتہ ہے کہ ہمارے خلاف بھی کارروائی ہوگی ، میں نے ایک ایک کوپکڑنا ہے اور کسی کونہیں چھوڑنا جتنا مرضی شور مچاﺅ،انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کو خوراک پوری نہیں ملتی اور ہسپتالوں میں عورتیں مرتی ہیں اور یہ قرض لیکر کرپشن کرتے ہیں ، میں قوم سے کہتا ہوں کے بے فکر ہوجاﺅ ، ہم نے کسی کونہیں چھوڑنا ، چائنہ میں چار سالوں میں چارسو وزیر وں کوجیلوں میں ڈالا گیا ہے اور کئی کو پھانسیاں ہوئی ہیں وہاں تو گروتھ نہیں رکی ، ملائیشیا میں سابق وزیر اعظم کی بیوی کو کرپشن میں پکڑا گیا ہے وہاں تو جمہوریت خطرے میں نہیں پڑی، جب میں نے پانامہ اٹھایا تو میرے اوپر 33ایف آئی آر درج کروائیں ، سپریم کورٹ میں میرے اوپر کیس چلا اور میں نے سپریم کورٹ میں جواب دیا لیکن میں نے لوگوں کواکٹھا نہیں کیا حالانکہ میں لوگوں کواکٹھا کر سکتاتھا کیونکہ پاکستان میں سٹریٹ پاور صرف تحریک انصاف کے پاس ہے ۔

انہوں نے کہا کہ زرداری اور شریفوں کی کرپشن یونین بنی ہوئی ہے ،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی نورا کشتی ہے ، اندر سے یہ آپس میں بھائی بھائی ہیں،اب یہ آپس میں ملکر الیکشن لڑرہے ہیں،بلاول کہہ رہاہے کہ اپوزیشن لیڈر کوپکڑ لیاہے ، انہوں نے کہا کہ نیب کی رفتار سست ہے، میں چیئر مین نیب سے کہتا ہوں کہ اگر ان کوکسی قسم کی معاونت کی ضرورت ہے تو حکومت ان کی مدد کرنے کیلئے تیارہے ۔ ہم ایک قانون نکال رہے ہیں جس کے تحت جوبھی کرپشن کی نشاندہی کرے گا ، اس کا 20فیصد کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو دیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اب تک چارہزار چھ سو 47ایکڑ زمین ہم نے پکڑی ہے جس کی قیمت تین سو ارب روپیہ ہے ، پنجاب میں اب تک دوہزار ایکڑ زمین پکڑی جا چکی ہے جس میں ایک سیاستدان 24سو کینال زمین پر قبضہ کرکے بیٹھا ہوا تھا ، ابھی کچھ پکڑے گئے ہیں ، آنیوالے دنوں میں قوم مزید خوشخبریاں سنے گی ، گواہوں کے تحفظ کیلئے بل لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو بلدیاتی نظام لیکر آرہے ہیں وہ گاﺅں کی سطح پر طاقت منتقل کرے گا ، ہم ابھی دیکھ رہے ہیں کہ کرنا کیاہے ؟ ہوسکتاہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے ، جب ہم موجودہ حالات سے نکل جائیں گے تو ہم کوکسی سے قرض نہیں مانگنا پڑے گا اور نہ کسی سے مدد مانگنا پڑے گی کیونکہ اس ملک میں سب کچھ ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے عثمان بزدار ہی وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں گے ، مجھے بڑی تکلیف ہوتی ہے جب میں ان کے بارے میں مختلف قسم کے تبصرے سنتاہوں ، وہ ایک شریف آدمی ہے اور لوگ ان کی شرافت کا غلط اندازہ لگا رہے ہیں،ہمیں بادشاہوں کی عادتیں پڑی ہوئی ہیں ، شہبازشریف کا ماہانہ خرچ 55لاکھ تھا جو اب آٹھ لاکھ پر آگیاہے ، ایک طرف آپ تبدیلی چاہ رہے ہیں اور ایک طرف بادشاچاہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سب کوبلایا ہواہے ، نیب آزاد ہے ، ہم بلانے پر جاکر جواب دے دیتے ہیں اور یہ شور مچا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا خسارہ ہے اور اس پر قابو پانے کیلئے قیمتیں تو بڑھیں گی ،اس سے بچنے کا صرف ایک طریقہ ہے کہ پیسہ ریکور کیا جائے ، پاکستان پورے برصغیر سے پیچھے رہ گیاہے ، غریب ملکوں کی وجہ کرپشن ہے ،وہاں وسائل کی کمی نہیں ہوتی ، کرپشن سے یہ ہوتاہے کہ جو پیسہ عوام پر خرچ کرنا ہوتاہے وہ ملک سے باہر نکل جاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کرنے کیلئے ادارے تباہ کرتے ہیں ، اس سے ڈبل نقصان ہوتاہے ،ہم اداروں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پاکستان میں 90فیصد ٹیکس چیزیں مہنگی کرکے عوام سے اکٹھا کیا جاتا ہے ، اب ہم پیسے والے لوگوں سے ٹیکس لینے کا نظام لیکر آرہے ہیں لیکن اس میں وقت لگے گا ، قوم تین ماہ ، چھ ماہ یا ایک سال میں تبدیلی دیکھے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک سو دن کے بعد عوام کوبتائیں گے کہ ہم نے کیا کہا تھا اور کیا کیا ، سو دن کے بعد ہم وزراءکی کارکردگی دیکھیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ کونسے وزیر آگے چلیں گے اور کونسے وزیر وں کوتبدیل کرنا ہے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ میں قوم سے بائیس سال سے وعدہ کررہا تھا کہ میں نے بڑے بڑے ڈاکوﺅں کو پکڑنا ہے ، میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں نے ایک آدمی کو نہیں چھوڑنا چاہے جو مرضی کرلیں، جنہوں نے قوم پر کھربوں کا قرض چڑھایاہے ، نوازشریف نے 65کروڑ کے دورے کئے ، مجھے بھی باہر بلاتے ہیں میں تو نہیں جاتا ، میں اس وقت جاﺅں گا جب مجھے پتہ ہوگا کہ میرے باہر جانے سے قوم کو فائدہ ہوگا ، اب شہباز شریف کی گرفتاری پر جو شور مچارہے تھے میں دیکھ رہا تھا کہ کتنی دیر جیل سے باہر رہیں گے ؟ وہ زیادہ دیر باہر نہیں رہیں گے ، انشاءاللہ

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں