چین سے کتنے ارب ڈالر لیے ہیں ؟بالآخر وزیر خزانہ نے خاموشی توڑ دی ،جان کر پاکستانیوں کو اپنے کانوں پر یقین نہ آئے

اسلام آباد (ڈیلی سماج آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ وزیر اعظم عمران کے دورہ چین سے تعلقات مضبوط ہوئے ، چائنہ کے ساتھ اچھے تعلقات کے مزید بہتر ہونے کے امکانات روش ہوگئے ،غربت کے خاتمے کیلئے چین کے تجربات سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیکنالوجی منتقل کی جائیگی ، بر آمدات دگنا ہوجائیں گی ،ہر دورے پر صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہئے کہ ملا کیا ؟ دوروں میں کچھ اور بھی حاصل کیا جاتاہے ۔

تفصیلات کے مطابق دورہ چین سے واپسی کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین کا دورہ بہت مفید رہاہے ، وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے چار مقاصد تھے ، پہلا یہ ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور حکومت بدلنے کے بعد چین اور پاکستان کی خواہش تھی کہ وزیر اعظم چین جائیں تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہمارے تعلقات کس نوعیت کے ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ سٹریٹجک تعلقات کومعاشی تعلقات میں بدلنے کیلئے اس دورے سے مدد ملی ہے اور چائنہ کے ساتھ 15کے لگ بھگ ایم اویو ز سائن کئے گئے ہیں، تیسری نمبر پر غربت کا خاتمہ ہے ،وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ ہماری بہت سی آباد ی ایسی ہے جو غربت کے لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اس لئے ہمیںغربت کوختم کرنے کیلئے چین تجربات سے فائدہ اٹھاناچاہئے ،اس لئے غربت کے خاتمے کیلئے چین سے معاہدہ کیا گیاہے، چوتھے نمبر پر چین سے زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے جس سے زراعت کو جدید بنانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ صرف اچھے ہیں بلکہ اس کے مزید بہتر ہونے کے امکانات روشن ہیں، چین سے معیشت میں وسعت کی بات ہوئی ہے جس میں ارتکاز اس بات پر تھا کہ ہم اپنی بر آمدات کیسے بڑھا سکتے ہیں؟ چین کے ساتھ جو بات ہوئی ہے اس سے امیدہے کہ ہم اپنی بر آمدات کوڈبل کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ دورہ چین سے دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہوئے ہیںلیکن اس موقع پر ایک طوفان کھڑا کردیا گیا کہ سی پیک پر بہت سے غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں لیکن میں واضح کردوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بات ہوئی ہے کہ سی پیک کو ہم نے گیٹ وے بنانا ہے ، اس کے لئے ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین کیاہے ، جس میں ایک یہ ہے کہ ہم پاکستان میں کس طرح صنعتوں کوترقی دے سکتے ہیں؟اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنی زرعی پیداوار کو کس طرح بڑھا سکتا ہے ؟ اور کس طرح سی پیک کے دائر ے میں رہتے ہوئے پاکستانی ہنر مندوں کی استعداد بہتر بنائی جاسکتی ہے ؟ ہم نہ یہ بھی طے کیا ہے کہ جے سی سی کی اگلی میٹنگ دسمبر میں ہوگی تاکہ لیڈر شپ نے جو نئی سمت طے کی ہے اس پر فوکس کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ تمام معاملات پر چینی قیادت کے ساتھ بہت اچھی نشستیں ہوئی ہیں، چین نے وزیر اعظم عمران خان کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا تھا ، چین میں منعقدہ کانفرنس میں 126ممالک کی اہم شخصیات موجود تھیں اور اتنے ممالک میں صرف سات ممالک ایسے تھے جن کے سربراہان کو سپیکرکے طور پر موقع دیا گیا جن میں وزیر اعظم عمران خان بھی ایک تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چین اور روس کے وزیر اعظم نے صرف آٹھ سٹالز کا معائنہ کیا اور ان میںایک پاکستان کا بھی تھا ، چین کے ساتھ تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط ہورہے ہیں، چینی قیادت کی چار اہم ترین شخصیات سے وزیر اعظم عمران خان کی ملاقاتیں ہوئیں، ان ملاقاتوں میں ہندوستان کے ساتھ مذاکرات ، افغانستان کی صورتحال ، انسداد دہشت گردی کے حوالے سے گفتگو ہوئی ، کرپشن کے خاتمے کیلئے چینی کے نائب صدر نے ہمارے ساتھ اپنا تحربہ شیئر کیا کہ چین نے کرپشن پرقابو پانے کیلئے کیا اقدامات کئے اور کیا کررہاہے؟ انہوں نے کہا کہ دسمبر میں پاک چین اور افغان وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات ہوگی ،پاک چین مشترکہ اعلامیہ کودیکھ لیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ یہ دورہ کتنا اہم اور بہتر رہاہے ؟

اس موقع پر صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر دورے پر صرف یہ سوال نہیں ہونا چاہئے کہ ملا کیا ؟ دوروں میں کچھ اور بھی حاصل کیا جاتاہے ۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں