پاکستان کوقرض نہیں بلکہ بیل آؤٹ پیکجزدیں گے، چینی قونصل جنرل

سرمایہ کاری کےبیل آؤٹ پیکجز سے پاکستان کو مالی بحران سے چھٹکارے میں مدد ملے گی، چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کھڑا ہے۔ چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن کی گفتگو

لاہور(روزنامہ سماج) پاکستان میں تعینات چینی قونصل جنرل لانگ ڈنگ بن نے کہا ہے کہ چین پاکستان کو قرض نہیں بلکہ بیل آؤٹ پیکجز دے گا، سرمایہ کاری کے بیل آؤٹ پیکجز سے پاکستان کو مالی بحران سے نکلنے میں مدد ملے گی،چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کھڑا ہے۔انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے دورہ چین کے دوران پاک چین قیادت کے درمیان 15معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے کھڑا ہے۔پاکستان کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے مدد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گردشی قرضوں میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سی پیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے بعد کراچی اور لاہور میں چینی قونصل خانوں کی سکیورٹی بڑھا دی ہے۔

دوسری جانب چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت توانائی کے 7 منصوبوں سے گزشتہ تین سالوں کے دوران 3ہزار 240 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کی گئی ہے جو پاکستان میں توانائی کی کل پیداوار کا 11 فیصد ہے۔

5 منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ چینی سفارتخانے کے ذرائع کے مطابق 50 میگاواٹ دائود ونڈ پاور پراجیکٹ، 100میگاواٹ پاکستان جھمپیریو ای پی ونڈ پاور پراجیکٹ، 50 میگاواٹ سچل ونڈ پاور پراجیکٹ، 900 میگاواٹ سولر پراجیکٹ پنجاب، 1320 میگاواٹ پورٹ قاسم ، 100 میگاواٹ کے تین ونڈ پاوراور 1320 میگاواٹ ساہیوال کول پاور پراجیکٹ کے منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق جن پانچ منصوبوں پر کام تیزی رفتاری سے جاری ہے ان میں 720 میگاواٹ کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 660 میگاواٹ حبکو کول پاور پلانٹ، سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، سندھ میں تھر کے کوئلے سے 660 میگاواٹ کول پاور پلانٹ اور تھر بلاک II میں 3.8 میٹرک ٹن کوئلہ کی پیداوار شامل ہیں۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں