زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد،سپریم کورٹ نے معاون خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیدی

لاہور(ڈیلی سماج آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کردی،عدالت نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیدی لیکن وزیر مملکت کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر زلفی بخاری نے وزیر مملکت کی حیثیت سے اختیارات استعمال کئے یا پروٹوکول لیا تو ان کیخلاف کارروائی ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے معاون خصوصی زلفی بخاری کی تعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت کی، وکیل ظفر اقبال نے کہا کہ زلفی بخاری کووزیرمملکت کاعہدہ دیا گیا،دہری شہریت سے متعلق فیصلہ زلفی بخاری پربھی لاگوہوتاہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری ملازمین کی دہری شہرت کافیصلہ زلفی بخاری پرلاگونہیں ہوتا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے اس فیصلے میں پابندی نہیں لگائی،آپ نے فیصلہ غورسے نہیں پڑھا،ہم نے پارلیمنٹ کوتجاویزدی ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم فنڈزمیں جس طرح حصہ لیاتارکین وطن کااحترام کرتے ہیں،آپ کورولزآف بزنس کوچیلنج کرناچاہئے تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاون خصوصی کی تعیناتی وزیراعظم کااختیار ہے،زلفی بخاری آرٹیکل 63،62 کی زدمیں نہیں آتے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اعتزازصاحب سے پوچھ لیں گے زلفی بخاری وزیرہیں یانہیں؟زلفی بخاری کون ہے،کہاں سے آیا؟۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پارلیمنٹ کواس معاملے پرتجاویز دے سکتے ہیں،زلفی بخاری کوکہاں سے وزیربنایاگیا،پوری سمری لائیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری نے ویب سائٹ پرکیسے وزیرمملکت کاعہدہ لکھ دیا؟۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری کی وجہ سے برٹش ایئرویزپاکستان آئی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اچھاتویہ ہوتاآپ پی آئی اے کوبہتربناتے،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کی اہلیت بتائیں،نئے پاکستان میں جیدلوگ ہونے چاہئیں،چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ صوابدیدی اختیارکامطلب یہ نہیں وزیراعظم جس طرح مرضی کام کرے۔

وقفے کے بعد دوبارہ مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی تو زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیئے،عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد زلفی بخاری کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کردی،عدالت نے زلفی بخاری کو معاون خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دیدی لیکن وزیر مملکت کی حیثیت سے کام کرنے سے روک دیا،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر زلفی بخاری نے وزیر مملکت کی حیثیت سے اختیارات استعمال کئے یا پروٹوکول لیا تو ان کیخلاف کارروائی ہو گی۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں