سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم خشک ہو جائے گا، پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، آنے والی نسل کو اگر پانی نہ دیا تو کچھ نہیں دیا۔چیف جسٹس

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔04 جون۔2018ء) سپریم کورٹ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔۔سپریم کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور اس دوران عدالت نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر دیا، عدالت نے پانی کی کمی اور ڈیمز کی تعمیر سے متعلق دیگر مقدمات بھی مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ پانی کی قلت ملک کے لیے سب سے بڑا ناسور ہے، کشن گنگا ڈیم سے دریائے نیلم خشک ہو جائے گا، کئی بار کہہ چکا ہوں کہ پانی کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے، آنے والی نسل کو اگر پانی نہ دیا تو کچھ نہیں دیا۔اس موقع پر درخواست گزار نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے لیے انتخابات سے قبل ڈیمز کی تعمیر کا وعدہ لازمی قرار دیا جائے، انتخابات میں ووٹ کے ساتھ کالا باغ ڈیم پر ریفرنڈم کی پرچی بھی شامل کی جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ الیکشن کو کنفیوژ نہ کریں، پاکستان کی بقا پانی پرمنحصر ہے لہذا پانی کے مسئلے پر جو بھی ہو سکا کروں گا، 48 سال سے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا، سپریم کورٹ کی اولین ترجیح پانی کے مسئلے کا حل ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیا؟ یہ ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے، کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پانی کی قلت اور ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام مقدمات سنیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ واٹر بم کا معاملہ ہے، بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، پچھلے دنوں بھارت نے کشن گنگا ڈیم بنایا جس سے نیلم جہلم خشک ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں، تمام مقدمات ہفتے کو سپریم کورٹ رجسٹری کراچی،، اتوار کو لاہور میں سنیں گے۔جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیے کہ کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کاحل نہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ذہن نشین کر لیں آج سے ہماری ترجیحات میں سب سے اہم پانی ہے، اسلام آباد،، پشاور اور کوئٹہ میں پانی سے متعلق تمام مقدمات سنیں گے۔

Share

اپنا تبصرہ بھیجیں